ممبئی کے تاریخی وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ میں ویسٹ انڈیز نے جارحانہ بیٹنگ اور مؤثر بولنگ کی بدولت زمبابوے کو 107 رنز سے شکست دے دی۔ میچ کا آغاز زمبابوے کے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کے فیصلے سے ہوا، تاہم یہ حکمت عملی ان کے لیے مہنگی ثابت ہوئی۔
کیریبین طوفان: 254 رنز کا پہاڑ
ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے ابتدا ہی سے اٹیکنگ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز بنا ڈالے۔ اننگز میں مجموعی طور پر 19 چھکے اور 16 چوکے لگائے گئے، جس سے اسٹیڈیم میں شائقین خوب محظوظ ہوئے۔
یہ اسکور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کا دوسرا بڑا مجموعہ ہے۔ سب سے بڑا اسکور سری لنکا کرکٹ ٹیم کے پاس ہے، جس نے 2007 کے افتتاحی ایڈیشن میں 260 رنز بنائے تھے۔
نمایاں بیٹنگ کارکردگی:
• شیمرون ہیٹ مائر — 34 گیندوں پر 85 رنز (7 چھکے، 7 چوکے)
• رومن پاول — 59 رنز
• شیرفین ردرفورڈ — 31 رنز
ہیٹ مائر نے صرف 19 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے تیز ترین ففٹی ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ کرس گیل کے پاس تھا، جنہوں نے 2009 میں 23 گیندوں پر نصف سنچری اسکور کی تھی۔
زمبابوے کی ناکام جدوجہد
255 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی۔ وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں اور پوری ٹیم 18ویں اوور میں 147 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
نمایاں بیٹنگ:
• بریڈ ایونز — 43 رنز (5 چھکے)
• ڈین میرز — 28 رنز
• سکندر رضا — 27 رنز
ویسٹ انڈیز کی جانب سے بولنگ میں:
• گداکیش موتی — 4 وکٹیں
• عقیل حسین — 3 وکٹیں
ریکارڈ بُک میں نئی انٹری
ہیٹ مائر کی 19 گیندوں پر نصف سنچری نہ صرف ویسٹ انڈیز کے لیے نیا ریکارڈ بنی بلکہ انہوں نے اپنا سابقہ ذاتی ریکارڈ بھی بہتر کیا۔ تاہم ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تیز ترین نصف سنچری کا عالمی اعزاز اب بھی یوراج سنگھ کے پاس ہے، جنہوں نے 2007 میں انگلینڈ کے خلاف صرف 12 گیندوں پر ففٹی اسکور کی تھی۔
میچ کا خلاصہ
• ویسٹ انڈیز: 254/6 (20 اوورز)
• زمبابوے: 147 آل آؤٹ (18 اوورز)
• نتیجہ: ویسٹ انڈیز 107 رنز سے کامیاب
اس فتح کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے سپر ایٹ مرحلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ میں اہم برتری حاصل کرلی۔