لاہور: گزشتہ سال 11 نومبر کو لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک سطح 2545 تک پہنچ گیا تھا، تاہم آج صبح 5 بجے ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہر کا اے کیو آئی 361 رہا، جو کہ واضح بہتری کی علامت ہے۔ پنجاب حکومت کے مطابق یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کیے گئے جامع اور سائنسی اقدامات کے سبب ممکن ہوئی ہے۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق ماحولیاتی بہتری کا یہ عمل اتفاقی نہیں بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی، سخت مانیٹرنگ اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہم مقامی سطح پر فضائی آلودگی کو بڑی حد تک کنٹرول کر چکے ہیں۔ عوام نے ساتھ دیا تو ایک دن ماحولیاتی دباؤ بھی اثرانداز نہیں ہوسکے گا۔ ان شاء اللہ۔”
اہم حکومتی اقدامات
• پنجاب کی تاریخ میں ماحولیات کے لیے سب سے بڑا بجٹ مختص
• انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس کا قیام
• سموگ گنز، ڈرون سرویلنس اور 41 ایئر مانیٹرنگ اسٹیشنز فعال
• سموگ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی
• غیر معیاری صنعتی یونٹس کی بندش
• مرکزی شاہراہوں پر روزانہ دو بار پانی کا چھڑکاؤ
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف نے انتظامیہ، شہری اداروں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر فضائی آلودگی کے کنٹرول کا عملی ماڈل پیش کیا۔
بھارتی آلودہ ہواؤں کے اثرات
حکام کے مطابق:
“مشرقی بھارت سے آنے والی آلودہ ہوائیں اور موسمی دباؤ کی تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے، تاہم مقامی سطح پر بہتری واضح ہے۔”
عوام کے لیے احتیاطی ہدایات
• N95 ماسک کا استعمال لازمی
• غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز
• بچوں، بزرگوں اور سانس و دل کے مریضوں کو گھر تک محدود رکھا جائے
علاج و نگرانی
• متاثرہ علاقوں میں مفت ہیلتھ کیمپس
• اسپتالوں میں خصوصی عملہ اور ادویات فراہم
• سموگ مریضوں کی روزانہ رپورٹنگ فعال
مریم نواز خود مانیٹرنگ کرتی ہیں
“کلین ایئر، کلین پنجاب” مشن کے تحت روزانہ مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کی براہ راست نگرانی وزیراعلیٰ مریم نواز خود کر رہی ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا:
“یہ صرف حکومتی مہم نہیں بلکہ عوام کی ذمہ داری بھی ہے۔ ہم سب مل کر کوشش کریں تو لاہور دوبارہ نیلی فضا کا شہر بن سکتا ہے۔