نیویارک: عالمی مالیاتی جریدے فوربز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی دولت میں گزشتہ ہفتوں کے دوران 1.1 بلین ڈالر (تقریباً 280 ارب روپے) کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کمی بنیادی طور پر ٹرمپ کی کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز کی شدید گراوٹ کے نتیجے میں سامنے آئی۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث کمپنی کے شیئرز گھٹ کر 10.18 ڈالر تک پہنچ گئے، جس نے ٹرمپ کی مجموعی دولت پر براہِ راست اثر ڈالا۔
کرپٹو مارکیٹ میں مندی بھی نقصان کا سبب
فوربز کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک آنے والی مندی نے بھی ٹرمپ کے اثاثوں کو نقصان پہنچایا، کیونکہ ان کی فیملی کی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ کرپٹو سے منسلک ہے۔
ٹرمپ کی دولت کا نیا تخمینہ
ستمبر میں ٹرمپ کی دولت 7.3 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی، تاہم حالیہ مالی جھٹکوں کے بعد ان کی دولت گھٹ کر 6.2 بلین ڈالر رہ گئی ہے۔
گزشتہ برس سے رواں ستمبر تک ٹرمپ کی دولت میں 3 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ فوربز کی امریکا کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201ویں نمبر پر آگئے تھے۔