اسلام آباد: وفاقی حکومت کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے دوران ایک اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے، جہاں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سولر پینلز اور اسٹیشنری کی مصنوعات پر مجوزہ ٹیکس میں اضافے کی تجویز واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات اور حکومتی ٹیم کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ سولر توانائی کے فروغ اور تعلیمی ضروریات سے متعلق اشیا پر اضافی ٹیکس عائد کرنے سے عوام پر مالی بوجھ بڑھے گا۔ مذاکرات کے بعد دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ فی الحال سولر پینلز اور اسٹیشنری مصنوعات پر نئے ٹیکس نافذ نہیں کیے جائیں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں توانائی کے متبادل ذرائع کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث سولر سسٹمز کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سولر پینلز پر ٹیکس بڑھا دیا جاتا تو نہ صرف صارفین کے اخراجات میں اضافہ ہوتا بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کی ترقی بھی متاثر ہو سکتی تھی۔
اسی طرح اسٹیشنری پر ٹیکس نہ بڑھانے کے فیصلے کو بھی تعلیمی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاپیاں، کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان پہلے ہی مہنگائی کے اثرات سے متاثر ہیں، ایسے میں مزید ٹیکس سے طلبہ اور والدین کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عوامی فلاح اور معاشی ریلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض شعبوں کو اضافی ٹیکسوں سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہیے۔ حکومتی حلقے اس پیش رفت کو بجٹ مذاکرات میں ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس سے عام شہریوں، طلبہ اور سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس رعایتوں پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت تعمیراتی اور ہاؤسنگ شعبے کو مزید فعال بنانے کے لیے کچھ ٹیکس مراعات دینا چاہتی ہے، تاہم آئی ایم ایف ان تجاویز کے مالی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق بجٹ مذاکرات کے دوران ایسے فیصلے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایک جانب مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ضروری ہے تو دوسری جانب عوامی مفادات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حتمی بجٹ منظوری اور سرکاری دستاویزات کے اجراء کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کن شعبوں کو ریلیف ملے گا اور کن شعبوں میں نئے مالیاتی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔