کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی سے متعلق مزید تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آگ کی لپیٹ میں آئے ہوئے اس کمرشل پلازے کی چھت پر 2 بڑے اے سی پلانٹس اور 3 ہیوی جنریٹرز نصب ہیں، جن میں ڈیزل اور پیٹرول موجود ہونے کی اطلاعات ہیں، جو صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پلازے کی چھت پر قائم پارکنگ ایریا میں 9 گاڑیاں اور ایک رکشہ بھی کھڑا ہے۔ آتش گیر مواد، ایندھن سے بھرے جنریٹرز اور گاڑیوں کی موجودگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی وقت آگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے یا زور دار دھماکے ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو اور فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تیسرے درجے کی آگ کے باعث گل پلازہ کا گراؤنڈ فلور مکمل طور پر جل چکا ہے، جبکہ فرسٹ فلور بھی شدید متاثر ہو کر راکھ بن چکا ہے۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت کے تین عقبی حصے منہدم ہو چکے ہیں، جبکہ شعلے اب چھت تک پہنچ چکے ہیں جہاں خطرناک آتش گیر سامان موجود ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کا کہنا ہے کہ فائر فائٹنگ کا عملہ مسلسل آگ بجھانے میں مصروف ہے، تاہم عمارت کا ایک بڑا حصہ گرنے کے بعد آگ کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے تلے دب کر ایک فائر فائٹر اہلکار جان کی بازی ہار گیا، جس سے ریسکیو ٹیموں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ 13 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی۔ اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ آگ سے متاثرہ 20 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو حکام کو خدشہ ہے کہ عمارت کے اندر اب بھی کئی افراد پھنسے ہو سکتے ہیں۔
فائر بریگیڈ نے آتشزدگی کو تیسرے درجے کی قرار دیا ہے اور آگ پر قابو پانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز، ایک واٹر باؤزر اور 2 اسنارکلز مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں۔ گل پلازہ میں تقریباً 12 سو دکانیں قائم ہیں، جن میں سے بیشتر مکمل طور پر جل چکی ہیں، جبکہ آگ کے پھیلاؤ اور عمارت کی خستہ حالت کے باعث کسی بھی بڑے سانحے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔
انتظامیہ اور ریسکیو ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے اور غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔