کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران جاں بحق ہونے والے ایک شہری کا مبینہ آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس نے سانحے کی دلخراش حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ یہ آڈیو عوام کے دلوں کو جھنجھوڑنے کے ساتھ ساتھ واقعے کی سنگینی اور وہاں پھنسے افراد کی بے بسی کی عکاسی کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق گل پلازہ میں لگی آگ پر 33 گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد مکمل طور پر قابو پا لیا گیا۔ فائر فائٹنگ کے بعد شروع کیے گئے سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیں، جس کے بعد اس افسوسناک واقعے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
سانحہ ہفتے کی شب تقریباً سوا 10 بجے پیش آیا، جب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کی اور تیزی سے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے، جس سے اندر موجود افراد کے لیے باہر نکلنے کے راستے مسدود ہو گئے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ گل پلازہ میں آگ کے دوران پھنسے ایک شہری کی ہے۔ آڈیو میں شہری نہایت کربناک انداز میں اپنے اہلِ خانہ کو صورتحال سے آگاہ کرتا اور ان سے معافی مانگتا سنائی دیتا ہے۔
آڈیو میں شہری کی آواز میں کہا گیا ہے:
“السلام علیکم، میں چاروں اطراف سے پھنس چکا ہوں، بہت خطرناک قسم کی آگ لگی ہے، میرا نکلنا بہت مشکل ہو گیا ہے، مجھ سے کوئی غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہو تو مجھے معاف کر دینا۔”
اس آڈیو پیغام کے دوران شہری کی شدید کھانسی کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں، جبکہ پس منظر میں “دروازہ توڑو” اور “کھڑکی توڑو” کی آوازیں صورتحال کی خوفناکی کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ یہ الفاظ اس لمحے کی تصویر کشی کرتے ہیں جب آگ اور دھوئیں کے درمیان پھنسے افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔
تاہم حکام کے مطابق تاحال آڈیو پیغام بھیجنے والے شخص کی باضابطہ شناخت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ آیا یہ آڈیو جاں بحق ہونے والے افراد میں سے کسی ایک کی ہے۔ متعلقہ ادارے اس حوالے سے حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
وائرل آڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ شہری عمارت میں فائر سیفٹی انتظامات کی عدم موجودگی، ایمرجنسی اخراج کے راستوں کی کمی اور ریسکیو آپریشن میں پیش آنے والی مشکلات پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ افسوس اور تعزیت بھی کیا جا رہا ہے۔
سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر کراچی میں کمرشل عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ایسے دلخراش واقعات دوبارہ رونما ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔