کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ پر حکومتی رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اصل سوالات کے جواب دینے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور واقعے کی سنگینی سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت اور حکومتی نااہلی کی واضح مثال ہے، جس پر کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال کچھ اور کیے جا رہے ہیں جبکہ جواب بالکل مختلف دیے جا رہے ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نے یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ واقعے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے حادثہ پر کیوں پہنچے؟ اس غیر معمولی تاخیر کی آخر کیا وجہ تھی؟ اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ تنقید بڑھنے پر میئر کراچی نے وضاحت دی کہ وہ اسلام آباد میں موجود تھے، لیکن جب وہ جائے حادثہ پر پہنچے اور متاثرہ افراد اور لواحقین کا ردعمل دیکھا تو انہیں معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ فاروق ستار کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا کسی سانحے کی سنگینی جاننے کے لیے عوامی غصے کا سامنا کرنا ضروری ہے؟
ایم کیو ایم رہنما نے مزید کہا کہ ہر سوال کا جواب موجود ہے، لیکن حکومتی شخصیات اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعلیٰ سندھ سے سخت سوالات پوچھے جاتے ہیں تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سانحے پر سیاست نہ کی جائے۔
فاروق ستار نے واضح کیا کہ عوامی جانوں کے ضیاع پر سوال اٹھانا سیاست نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام گل پلازہ سانحے پر واضح، شفاف اور بروقت جوابات دیں اور ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی سوالات کو دبانے کی کوشش کی گئی تو مستقبل میں ایسے سانحات کا سلسلہ نہیں رکے گا، اور اس کی مکمل ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔