انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار پر بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایونٹ میں شرکت بھی غیریقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قومی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم ورلڈ کپ میں شرکت یا عدم شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق اس اہم معاملے پر مشاورت کے لیے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی مفاد، سکیورٹی خدشات اور آئی سی سی کے حالیہ فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ سفارتی اور بین الاقوامی تناظر میں بھی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ حکومت اس معاملے کو صرف کھیل تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع تر پالیسی فریم ورک میں دیکھ رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر سنجیدہ مشاورت جاری ہے اور حکومت اپنا کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے آئی سی سی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا مؤقف اصولی اور جائز تھا، تاہم آئی سی سی نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے اسے مسترد کیا، جو افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں اور تمام فریقین کو کھیل کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ پاکستانی کھلاڑی باصلاحیت ہیں اور کسی بھی میدان میں مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم کامیابی کا دارومدار ٹیم ورک اور منصفانہ فیصلوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی اور پی سی بی حکومتی فیصلے کا پابند ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ تاہم آئی سی سی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بنگلادیش کے اخراج کے بعد پاکستان کے ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز 7 فروری سے ہونا ہے، جبکہ پاکستان کے میچز سری لنکا میں شیڈول کیے گئے ہیں۔ اب سب کی نظریں حکومت پاکستان کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جو اس اہم معاملے میں آئندہ کا راستہ متعین کرے گا۔