لاہور/نئی دہلی: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر بھارتی میڈیا نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان پر ممکنہ پابندیوں کا پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کے باعث پاکستان کرکٹ کو مختلف سطحوں پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے فیصلے کے بعد آج انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ایک اہم ورچوئل بورڈ میٹنگ طلب کی گئی ہے، جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت اور ٹورنامنٹ کھیلنے کی اجازت سے متعلق امور زیرِ غور آئیں گے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے تاحال آئی سی سی کو باضابطہ طور پر اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
بھارتی میڈیا میں یہ دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں کہ اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا تو اسے آئی سی سی کی جانب سے پابندیوں یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ عالمی ایونٹس میں شرکت کے حوالے سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ آئی سی سی کے بعض بڑے رکن ممالک پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز کھیلنے سے بھی انکار کر سکتے ہیں۔ مزید برآں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں شریک غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے اور براڈکاسٹرز کو ہونے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ بھی پی سی بی سے طلب کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ روز قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دے دی تھی، تاہم حکومت نے 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ کرکٹ اور سفارتی سطح پر مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 6 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔ پاکستان کے فیصلے اور آئی سی سی کے ممکنہ ردِعمل پر کرکٹ شائقین اور ماہرین کی نظریں مرکوز ہیں۔