کولکتہ میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں New Zealand national cricket team نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے South Africa national cricket team کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی۔ کیوی اوپنرز کی جارحانہ بیٹنگ نے میچ کو یکطرفہ بنا دیا اور ہدف محض 13 اوورز میں حاصل کرلیا گیا۔
ٹاس اور پہلی اننگز کی روداد
نیوزی لینڈ کے کپتان Mitchell Santner نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ پروٹیز بیٹنگ لائن ابتدا میں مشکلات کا شکار رہی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتی رہی۔
جنوبی افریقا نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز اسکور کیے۔
• Marco Jansen 55 رنز کے ساتھ ناقابلِ شکست رہے اور ٹیم کو قابلِ دفاع مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
• Dewald Brevis نے 34 اور Tristan Stubbs نے 29 رنز بنائے۔
• Aiden Markram 18، Quinton de Kock 10 اور David Miller 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے Matt Henry، Michael Bracewell (مک کونکی کے طور پر معروف) اور Rachin Ravindra نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
کیوی اوپنرز کی طوفانی بیٹنگ
170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کے اوپنرز نے جارحانہ انداز اپنایا اور پاور پلے میں ہی میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
Finn Allen نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری اسکور کرتے ہوئے صرف 33 گیندوں پر تین ہندسوں کی تعداد مکمل کی۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور 8 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ انہوں نے میدان کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلے اور جنوبی افریقی بولرز کو بے بس کردیا۔
دوسری جانب Tim Seifert نے 58 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جبکہ رچن رویندرا 13 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ نیوزی لینڈ نے ہدف 13ویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرکے شاندار فتح اپنے نام کی۔
ریکارڈ ٹوٹ گیا
اس سے قبل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں تیز ترین سنچری کا اعزاز Chris Gayle کے پاس تھا، جنہوں نے 2016 میں انگلینڈ کے خلاف 47 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی۔ فن ایلن نے یہ ریکارڈ توڑ کر نئی تاریخ رقم کردی۔
فائنل کی راہ ہموار
اس کامیابی کے ساتھ نیوزی لینڈ نے فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی ہے۔ اب ٹورنامنٹ کا دوسرا سیمی فائنل India national cricket team اور England cricket team کے درمیان ممبئی میں کھیلا جائے گا، جس کی فاتح ٹیم فائنل میں کیویز کا مقابلہ کرے گی۔
نیوزی لینڈ کی یہ جیت نہ صرف ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کا ثبوت ہے بلکہ فن ایلن کی تاریخی اننگز کو بھی طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ کرکٹ شائقین اب ایک سنسنی خیز فائنل کے منتظر ہیں۔