شیخوپورہ/اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی چشمہ لگا کر تقریباً 70 فیصد ہے۔
طبی معائنے پر اطمینان کا اظہار
شیخوپورہ بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حالیہ طبی معائنے کے دوران ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں اور بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پمز اور الشفاء انٹرنیشنل کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کیا تھا۔
وکیل کا دعویٰ اور عدالتی ہدایت
اس سے قبل عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی بینائی 15 فیصد تک رہ گئی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر قانون نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق صورتحال اس کے برعکس ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 16 فروری تک بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے، جس کے بعد مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
بار اور بینچ کے تعاون پر زور
تقریب سے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے وکلا برادری کے مسائل کے حل کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی مؤثر فراہمی کے لیے بار اور بینچ کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی اصلاحات اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیاسی و معاشی صورتحال پر اظہار خیال
وفاقی وزیر قانون نے ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ ان کے مطابق معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل ہے اور گلگت بلتستان و کشمیر کو ملک کا حصہ قرار دیتے ہوئے قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
سڑکوں کی بندش پر تنقید
اعظم نذیر تارڑ نے موٹر ویز اور جی ٹی روڈ کی بندش کو غیر آئینی اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت نے سڑکیں نہ کھولیں تو وفاق آئین کے تحت کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر ملک کو بہتری کی جانب لے جانا ہوگا۔
وفاقی وزیر کے بیان کے بعد عمران خان کی صحت سے متعلق جاری بحث میں ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے، جبکہ حتمی تصویر سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی میڈیکل رپورٹ کے بعد واضح ہوگی۔