امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے نئی شرائط عائد کر دیں، جس کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان شرائط پر عملدرآمد کے بغیر تہران کے ساتھ کسی بھی جامع معاہدے یا کشیدگی میں کمی کی پیشرفت ممکن نہیں ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں مبینہ بمباری سے ہونے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کرے گا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے ایران سے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کرنے اور اپنی جوہری سرگرمیوں کو صرف ایک تنصیب تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں میں محدود نرمی کی پیشکش کرتے ہوئے صرف 25 فیصد تک ریلیف دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ واشنگٹن نے لبنان سمیت خطے کے مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ان شرائط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ امن عمل کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔