واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے اتحادی ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اتحادی ممالک اس اہم سمندری گزرگاہ کو کھلا رکھنے اور اس کی حفاظت میں مدد فراہم نہ کر سکے تو نیٹو اتحاد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم ان کے بقول فی الحال ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ تہران کسی بڑی پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے معاملے پر امریکا کم از کم سات ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ ان ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
برطانوی اخبار کے مطابق امریکی صدر نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر نیٹو اتحاد نے اس معاملے میں مؤثر کردار ادا نہ کیا تو اس اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس راستے کو محفوظ رکھنا عالمی ذمہ داری ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں یہ بھی اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی ملاقات اس وقت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے جب آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک بھی اس کی سلامتی یقینی بنانے میں عملی کردار ادا کریں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے چین سمیت دنیا کے کئی بڑے ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ چین کے علاوہ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اپنے جنگی جہاز اس علاقے میں تعینات کریں گے تاکہ عالمی تجارت کے اس اہم راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
تاہم امریکی صدر کی اس اپیل پر اب تک عالمی سطح پر محتاط اور نسبتاً خاموش ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور کسی بڑے ملک نے تاحال آبنائے ہرمز میں اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر عالمی طاقتوں کا محتاط رویہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔