اسلام آباد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت 20 جون سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی پر غور کر رہی ہے۔ ابتدائی تجاویز کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 20 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 36 روپے تک کمی کی جا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ حکومتی آمدنی کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں اقتصادی صورتحال اور عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ کمی کی منظوری دے دی گئی تو یہ حالیہ برسوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی سب سے بڑی کمیوں میں شمار ہوگی، جس سے نہ صرف عام صارفین بلکہ ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے کو بھی خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی پیش رفت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں۔
اگر حکومت اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے تو 20 جون سے ملک بھر میں پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نمایاں مالی ریلیف حاصل ہونے کی توقع ہے۔