اسلام آباد: ایف بی آر کا بڑا اقدام، تمام رجسٹرڈ کاروبار ایک ہفتے میں ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کا حکم

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ دکانوں اور مخصوص کاروباری شعبوں کو ایک ہفتے کے اندر ایف بی آر کے ڈیجیٹل ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور ریونیو وصولی کے نظام کو مزید شفاف بنانا بتایا جا رہا ہے۔

پوائنٹ آف سیلز مشین لازمی قرار

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ایسے کاروبار جو پوائنٹ آف سیلز (POS) سسٹم استعمال کرتے ہیں، انہیں لازمی طور پر ایف بی آر کے مرکزی نظام سے منسلک ہونا ہوگا۔ ٹیکس نظام سے منسلک کاروباروں پر POS مشین کی تنصیب بنیادی شرط قرار دی گئی ہے تاکہ ہر فروخت کا ریکارڈ براہ راست ایف بی آر کو منتقل ہو سکے۔

کن شعبوں پر اطلاق ہوگا؟

ایف بی آر کی ہدایات کے تحت درج ذیل شعبوں کو لازمی رجسٹریشن اور سسٹم سے منسلک ہونا ہوگا:
• ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز اور کلبز
• انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر اور کارگو سروسز
• بیوٹی پارلرز، اسلمنگ سینٹرز اور بیوٹی کلینکس
• ہئیر ٹرانسپلانٹ سینٹرز، پرائیویٹ و ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنز
• لیبارٹریز، ڈائیگناسٹک اور ایکسرے سینٹرز
• پرائیویٹ اسپتال اور ہیلتھ کیئر سروسز
• ہیلتھ کلبز، فٹنس کلبز، سوئمنگ پولز اور ملٹی پرپز کلبز

معروف کلبز اور ادارے بھی شامل

نوٹیفکیشن کے مطابق ملک کے بڑے سماجی و تفریحی کلبز بھی اس دائرہ کار میں آئیں گے، جن میں کراچی جمخانہ، اسلام آباد کلب اور لاہور جمخانہ سمیت دیگر نمایاں کلبز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس فرمز، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے بھی ٹیکس نظام سے منسلک ہوں گے۔

تعلیمی اداروں کے لیے بھی شرط

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز جن کی ماہانہ فیس ایک ہزار روپے یا اس سے زائد ہے، انہیں بھی ایف بی آر کے نظام میں رجسٹر ہونا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی شعبے میں مالی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

قانونی بنیاد

ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سے منسلک ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ کرنے والے کاروباروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس میں جرمانے اور دیگر سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔

ٹیکس نیٹ میں وسعت کی کوشش

ماہرین کے مطابق یہ اقدام دستاویزی معیشت کے فروغ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، چھوٹے کاروباری حلقوں نے اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے درکار تکنیکی اور مالی اخراجات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ ڈیڈ لائن کے اندر رجسٹریشن اور سسٹم انضمام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ قومی خزانے میں محصولات کی وصولی کو بہتر بنایا جا سکے۔

Related posts

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ عارضی طور پر روکنے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ مذاکرات میں پاکستان پر ٹیکس اصلاحات تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا

ایف پی سی سی آئی کی بجٹ 2026-27 تجاویز، تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دینے کا مطالبہ