امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے، نئی جھڑپوں اور سخت بیانات کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی خریداری میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً ڈھائی فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر 63 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے ایک روز قبل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 5.31 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم تازہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے مارکیٹ کا رخ دوبارہ اوپر کی جانب موڑ دیا۔

اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً اتنا ہی اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ بدھ کے روز ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کمی ہوئی تھی، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ خصوصاً خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی بل میں اضافے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب سرمایہ کار اور عالمی مالیاتی ادارے خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔

Related posts

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی خبروں نے عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل مچا دی،

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ عارضی طور پر روکنے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ مذاکرات میں پاکستان پر ٹیکس اصلاحات تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا