آمدنی اور طرزِ زندگی میں تضاد پایا گیا تو آڈٹ ہوگا، کوئی بھی تاجر صرف معمولی رقم دے کر ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا: چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایسے تاجروں اور کاروباری افراد کا آڈٹ کیا جائے گا جن کا طرزِ زندگی ان کی ظاہر کردہ آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایک گفتگو کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کوئی تاجر صرف 25 ہزار روپے ادا کرکے اپنی تمام ٹیکس ذمہ داریوں سے مکمل طور پر بری الذمہ ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندگان کی اصل آمدنی، کاروباری حجم اور مالی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ٹیکس واجبات کا تعین کیا جاتا ہے۔

راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ اگر کسی فرد یا تاجر کی رہائش، گاڑیاں، اخراجات اور مجموعی طرزِ زندگی اس کی ظاہر کردہ آمدنی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بہتر یا شاہانہ نظر آئے تو ایف بی آر کو اس کی مالی حیثیت کا جائزہ لینے اور آڈٹ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن تاجروں کی فروخت اور کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہوں گی، انہیں مقررہ قوانین اور شرح کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کا مقصد ٹیکس نظام کو مؤثر بنانا اور تمام افراد کو ان کی حقیقی آمدنی کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالنے کا پابند بنانا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ملک میں تقریباً 70 لاکھ افراد ایسے ہیں جو یا تو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں یا پھر اپنی آمدنی کے مطابق مکمل ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دائرہ کار کو وسعت دینا اور محصولات میں اضافہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

سپر ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس کا نفاذ اصولی طور پر مثالی اقدام نہیں تھا، تاہم یہ فیصلہ مخصوص معاشی حالات، مالی دباؤ اور حکومتی ضروریات کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام میں اصلاحات، دستاویزی معیشت کے فروغ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری رکھے گا تاکہ قومی آمدنی میں اضافہ اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

Related posts

نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا نیا نظام، کس آمدن پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟

ڈیجیٹل نظام سے عدم انضمام پر سخت کارروائی کی تجویز، ایف بی آر نے بھاری جرمانے اور کاروبار سیل کرنے کی شقیں شامل کر دیں

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی، فائلرز کو ریلیف دینے کا اعلان