اسلام آباد: پاک فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ معمول کی تربیتی مشق کے دوران خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے دو افسران شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حادثہ آج اس وقت پیش آیا جب طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر مامور تھا۔ حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، تاہم متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طہٰ عباسی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ دونوں افسران پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران وطن کی خدمت میں مصروف تھے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، سینئر فوجی حکام اور افسران و جوانوں نے اس افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ عسکری قیادت نے شہداء کی قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری قوم اس سانحے پر غمزدہ ہے اور شہید افسران کی وطن کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مسلح افواج نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔
حادثے کے بعد متعلقہ حکام نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جبکہ طیارہ گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تربیتی پروازوں کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کی مکمل تکنیکی جانچ کی جاتی ہے تاکہ مستقبل میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔