چوہدری شجاعت حسین سے چین کے اعلیٰ سطحی سرکاری و نجی کاروباری وفد کی ملاقات

لاہور: پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین سے چین کے اعلیٰ سطحی سرکاری و نجی کاروباری وفد نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد کی قیادت چین کے صوبہ حونان کے شہر لاؤڈی کے ڈپٹی میئر یانگ وائے کر رہے تھے، جبکہ صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین بھی ملاقات میں شریک تھے۔

ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی، باہمی معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گجرات اور لاؤڈی سٹی کے درمیان گزشتہ روز طے پانے والے سسٹر سٹی معاہدے پر بھی گفتگو ہوئی اور اس پر جلد عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان لازوال دوستی اور مضبوط معاشی تعاون موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا مخلص اور آزمودہ دوست ہے، جو جنگ ہو یا امن، سیلاب، زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت، ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ہمیشہ بین الاقوامی امور پر یکساں مؤقف اختیار کیا ہے اور پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ ان کے مطابق چین کی تیز رفتار ترقی پاکستان کے لیے ایک مثالی ماڈل ہے اور پاکستان چینی ٹیکنالوجی اور ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کرکے معاشی ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔

چوہدری شجاعت حسین نے گجرات اور لاؤڈی سٹی کے درمیان معاشی تعاون کے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر مؤثر عملدرآمد سے دونوں شہروں کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

اس موقع پر ڈپٹی میئر یانگ وائے نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی دوستی اور اقتصادی شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی، جبکہ لاؤڈی سٹی اور گجرات کے درمیان سسٹر سٹی معاہدے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے اپنے گھر پر چائے کی دعوت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے وفد کو پنجاب میں چینی کمپنیوں کی جاری سرمایہ کاری سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سسٹر سٹی معاہدے کے تحت چینی کمپنیاں گجرات میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کریں گی، جس سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط کو مزید مستحکم بنا رہی ہے۔ ملاقات میں مقامی صنعتکاروں نے بھی شرکت کی اور دوطرفہ تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

Related posts

امریکا–ایران کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا دیا، خام تیل 87 ڈالر سے تجاوز، اسٹاک مارکیٹیں دباؤ میں

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا

آمدنی اور طرزِ زندگی میں تضاد پایا گیا تو آڈٹ ہوگا، کوئی بھی تاجر صرف معمولی رقم دے کر ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا: چیئرمین ایف بی آر