(نیب) کے مقدمات میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو حاصل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب مقدمات سے متعلق ایک اہم آئینی و قانونی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ جاری کیا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی شامل تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا اس نوعیت کے تمام معاملات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اے اور 175 ایف کے تحت نیب سے متعلق زیر التوا اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل شدہ تصور کی جائیں گی، جہاں ان پر قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیب کے ایک زیر سماعت مقدمے کے دوران خود عدالت کے اختیارِ سماعت کا سوال اٹھایا گیا تھا۔ اس نکتے پر درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ اس نوعیت کے مقدمات سن سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل میں 18 مارچ 2026 کو نیب ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے ایک ضمانت منظور کیے جانے کی مثال بھی پیش کی۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ 5 مارچ 2026 کو نیب قانون میں کی گئی ترمیم کے بعد نیب اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک ہی مقدمے کا کچھ حصہ سپریم کورٹ اور کچھ حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتا، اس لیے تمام کارروائی ایک ہی فورم پر ہونی چاہیے۔

نیب کے وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں ترمیم کے بعد اختیارِ سماعت واضح طور پر وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیا جا چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے بعد نیب مقدمات، بالخصوص ضمانت کی درخواستوں اور مرکزی اپیلوں کے حوالے سے قانونی صورتحال واضح ہو گئی ہے۔

اس فیصلے کا اطلاق سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے نیب مقدمات پر بھی ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ سے متعلق اپنے ضمانت کیس میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد ان کی ضمانت کی درخواست سمیت نیب سے متعلق دیگر معاملات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

Related posts

ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع نہ کرانے پر پنجاب بار کونسل کا بڑا ایکشن

نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اسکولوں اور دیگر عوامی سہولیات کی اراضی کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے معاملے پر گائیڈ لائنز جاری کردی