لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے معاملے پر گائیڈ لائنز جاری کردی

لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے معاملے پر اہم اور تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کو محض خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درست ویزا، ٹکٹ اور دیگر سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے شہری محمد عباس کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے، امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے باوجود انہیں اچانک آف لوڈ کر دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کو نائجیریا جانے سے اس خدشے کی بنیاد پر روکا گیا کہ شاید وہ دبئی سے واپس نہ آئے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ایسا خدشہ کسی شہری کے بنیادی حق کو محدود کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار نہ کسی مقدمے میں مطلوب تھا، نہ کسی انکوائری کا سامنا کر رہا تھا، اور نہ ہی اس کا نام بلیک لسٹ یا ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل تھا۔

عدالت نے ایف آئی اے کا اقدام کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سفر کرنا آئین پاکستان کے تحت شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ اگرچہ ایف آئی اے کو امیگریشن سے متعلق اختیارات حاصل ہیں، لیکن یہ اختیارات لامحدود نہیں اور انہیں قانون، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کے لیے متعدد اہم ہدایات بھی جاری کیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت متعلقہ افسران تفصیلی، واضح اور بامعنی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کریں گے۔ اس کے علاوہ مسافر سے کیے گئے سوالات اور اس کے جوابات کو بھی مکمل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔

عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جہاں ممکن ہو، انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر محفوظ کیا جائے تاکہ بعد ازاں شفافیت برقرار رہے۔ اسی طرح آف لوڈنگ آرڈر یا متعلقہ پروفارما کی نقل متاثرہ شہری کو فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وجوہات ریکارڈ کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک قانونی تقاضا ہے۔ عدالت کے مطابق انتظامی اختیارات کا استعمال شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

جسٹس راحیل کامران نے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے اپنے بھائی کے پاس نائجیریا جانے کی وضاحت غیر معقول نہیں تھی، جبکہ ایف آئی اے اس وضاحت کو مسترد کرنے کی کوئی معقول وجہ ریکارڈ کرنے میں ناکام رہی۔

عدالت نے کہا کہ غیر قانونی آف لوڈنگ کے باعث درخواست گزار کو مالی نقصان، ذہنی اذیت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ متاثرہ شہری اگر چاہے تو ہرجانے کے حصول کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں آف لوڈنگ کے اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا اور شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں مددگار بنے گا۔

Related posts

وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی سے متعلق قانون پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ سزا جرم قرار دے دیا

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی حملہ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید اور فی کس 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی

پنجاب حکومت کے گلف اسٹریم G500 طیارے کی خریداری پر قانونی نوٹس، قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات