اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم جولائی 2026 سے شروع ہونے والے مالی سال 27-2026 کے دوران پاکستان کی برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کے تازہ تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات بڑھ کر 35 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 26-2025، جو 30 جون کو اختتام پذیر ہوگا، کے دوران پاکستان کی برآمدات 31 ارب 93 کروڑ ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح آئندہ مالی سال میں برآمدات میں تقریباً 3 ارب 70 کروڑ ڈالر کا اضافہ متوقع ہے، جو ملکی برآمدی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث مجموعی تجارتی حجم میں وسعت آئے گی۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران تجارتی خسارے میں اضافے کا بھی تخمینہ لگایا ہے، تاہم برآمدات میں نمایاں بہتری ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق برآمدات میں متوقع اضافہ صنعتی پیداوار، ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہتر کارکردگی، عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی طلب اور حکومتی برآمدی پالیسیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر برآمدی شعبے کو درپیش توانائی، لاگت اور مسابقتی مسائل پر قابو پالیا گیا تو پاکستان مستقبل میں برآمدات کے مزید نئے ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے، کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کو کم کرنے اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے برآمدات کے حوالے سے جاری کیے گئے یہ تخمینے ملکی معیشت کے لیے حوص افزا سمجھے جارہے ہیں۔