آئی ایم ایف شرائط کے باعث ترقیاتی اخراجات محدود، وفاقی ترقیاتی پروگرام کا نصف بجٹ بھی استعمال نہ ہو سکا

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور اخراجات پر سخت کنٹرول کے باعث وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا بڑا حصہ تاحال خرچ نہیں ہو سکا، جس سے متعدد اہم منصوبوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی و ترقی Ahsan Iqbal کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سالانہ پلان رابطہ کمیٹی (APCC) کے اجلاس میں پیش کیے گئے ورکنگ پیپر کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کی مد میں ایک ہزار ارب روپے مختص کیے تھے، تاہم 25 مئی 2026 تک صرف 528 ارب روپے ہی استعمال کیے جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی رفتار توقعات سے کم رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ غیر استعمال شدہ رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے بلکہ نئی ترقیاتی اسکیموں کے آغاز پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ترقیاتی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ترقیاتی سرمایہ کاری کئی برسوں سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے مقابلے میں ترقیاتی سرمایہ کاری کی شرح 2.6 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے، جو ملکی ترقی اور معاشی نمو کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے زیر غور اور زیر تعمیر ہیں، تاہم دستیاب وسائل ان منصوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر 10 ہزار ارب روپے سے زائد درکار ہیں۔

وسائل کی کمی، منصوبوں کی تکمیل بڑا چیلنج

وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت کو ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود مالی گنجائش کے باعث تمام منصوبوں پر بیک وقت کام جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی مالی حالت نسبتاً بہتر ہوئی ہے اور ان کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کئی برسوں سے تقریباً ایک ہی سطح پر برقرار ہے۔

آئندہ مالی سال میں بھی مالی دباؤ برقرار رہنے کا امکان

احسن اقبال نے بتایا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں نے آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں تقریباً 3 ہزار ارب روپے کے فنڈز کی درخواست کی تھی، تاہم دستیاب وسائل اس طلب کے مقابلے میں انتہائی محدود ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام اب بھی تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر موجود ہے، جس کے باعث آئندہ مالی سال میں صرف قومی اہمیت کے حامل اور ترجیحی منصوبوں کو ہی فنڈز فراہم کیے جا سکیں گے، جبکہ کم ترجیحی اسکیموں کو مؤخر کیے جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی اخراجات میں یہی رجحان برقرار رہا تو بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کے متعدد منصوبوں کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔

Related posts

آٓئندہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان

ایف بی آر کی محصولات میں کمی 868 ارب روپے تک پہنچ گئی، جون میں 2,752 ارب روپے جمع کرنا بڑا چیلنج

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا