بجٹ مذاکرات: آئی ایم ایف کے مزید مطالبات سامنے آگئے

اسلام آباد: حکومت سے بجٹ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے مزید مطالبات سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہےکہ آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں تمام طے شدہ شرائط پر عملدرآمدکیا جائے، صوبائی حکومتیں اخراجات کم کرنےکے اقدامات کی تحریری ضمانت دیں اور صوبائی حکومتیں بجٹ میں کاروبارکا ماحول بہتر بنانے کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔

آئی ایم ایف نے اپنے مطالبے میں کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں بجلی اورگیس پرکوئی سبسڈی فراہم نہ کریں جب کہ صوبائی حکومتوں کو رائٹ سائزنگ کرکے نئی ملازمتوں پرپابندی عائدکرنا ہوگی۔

مطالبے میں مزید کہا گیا ہےکہ طےکردہ اہداف پرپارلیمنٹ میں موجودجماعتوں کو اعتماد میں لےکر ان کا حصول یقینی بنایا جائے، طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے صوبے بجٹ کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہےکہ بجلی،گیس چوری اور اسمگلنگ روکنےکیلئے وفاق اور صوبے مل کر عملی اقدامات کریں، صوبے زرعی آمدن اور خدمات پر ٹیکس وصولی کے لیے لائحہ عمل کو بجٹ کا حصہ بنائیں۔

Related posts

ایل این جی کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا گیا

حکومت نے پیٹرولیم شعبے میں مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کا عمل شروع کرنے کی تیاری کرلی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ