خیبرپختونخوا حکومت کا لاکھوں آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کا منصوبہ

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں تعلیم سے محروم بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے جامع منصوبے پر کام شروع کردیا، جس کے تحت آؤٹ آف اسکول بچوں کی درست تعداد، ان کے مقامات اور اسکول نہ جانے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے صوبے بھر میں سروے کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت محکمہ تعلیم، بلدیات، صحت اور سماجی بہبود کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بھی موجود تھے۔

حکومت کا مقصد مختلف سرکاری محکموں کو ایک مربوط نظام کے تحت لاتے ہوئے ایسے بچوں کی نشاندہی کرنا ہے جو اسکول جانے کی عمر میں ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔

آؤٹ آف اسکول بچوں کا ’’ون میپ‘‘ تیار ہوگا

حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں اسکول سے باہر بچوں سے متعلق جامع سروے کیا جائے گا۔ بچوں کی تعداد اور ان کے رہائشی علاقوں کی درست نشاندہی کے لیے ’’ون میپ‘‘ نظام تشکیل دیا جائے گا۔

اس نظام کے ذریعے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ صوبے کے کن علاقوں میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور وہاں تعلیمی سہولیات کی کیا صورتحال ہے۔

حکام کے مطابق دستیاب اعداد و شمار میں بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبرپختونخوا میں 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد تقریباً 26 لاکھ ہے۔

حکومت نے ان اعداد و شمار کے فرق کو ختم کرنے اور مستند ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے جامع سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلے مرحلے میں 60 فیصد بچوں کو اسکولوں میں لانے کا ہدف

بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسکول سے باہر 60 فیصد بچوں کو فوری طور پر تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے پانچ سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اسکولوں کی ضروریات، اساتذہ، کلاس رومز اور دیگر تعلیمی سہولیات سے متعلق بروقت منصوبہ بندی کی جاسکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے روایتی سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ کمیونٹی اسکولز، ڈبل شفٹ اسکولوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کیلئے مالی معاونت

منصوبے میں ان بچوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی جو مالی مشکلات یا غربت کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

بریفنگ کے مطابق ایسے بچوں کو وظائف، زکوٰۃ اور دیگر دستیاب معاونتی پروگراموں سے مدد فراہم کی جائے گی تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔

حکام نے بتایا کہ وظائف کے حصول کے لیے بچوں کی حاضری کو بنیادی شرط بنایا جائے گا اور ماہانہ وظیفے کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔

اس اقدام کا مقصد نہ صرف بچوں کو اسکول میں داخل کرانا بلکہ انہیں تعلیمی اداروں میں برقرار رکھنا بھی ہے۔

تعلیم کے ساتھ فنی تربیت بھی دی جائے گی

حکومت کے منصوبے میں اسکول سے باہر بچوں کو صرف رسمی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ہنر اور فنی تربیت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بچوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام ’’جنریشن ان لمیٹڈ‘‘ کے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل میں روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرسکیں۔

حکام کے مطابق تعلیم اور فنی تربیت کو یکجا کرنے سے نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

سروے کے ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق ہوگی

حکومت نے منصوبے میں شفافیت اور اعداد و شمار کی درستگی یقینی بنانے کے لیے آزادانہ تصدیق کا نظام بھی شامل کیا ہے۔

بریفنگ کے مطابق ایک آزاد ادارہ سروے کے جمع کیے گئے ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔ اس عمل کا مقصد سروے کے نتائج کی صحت جانچنا اور آؤٹ آف اسکول بچوں سے متعلق مستند ڈیٹا تیار کرنا ہے۔

حکام کے مطابق درست اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی بنیاد پر ہی صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔

تعلیم سے محروم بچوں کی واپسی بڑا چیلنج

خیبرپختونخوا میں بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول سے باہر ہونا حکومت کے لیے ایک بڑا تعلیمی چیلنج ہے۔ نئے منصوبے میں بچوں کی نشاندہی، داخلہ، حاضری برقرار رکھنے، مالی معاونت اور فنی تربیت سمیت مختلف اقدامات کو ایک ہی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے مختلف محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر یہ کوشش کی جارہی ہے کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف اسکول داخلوں تک محدود اقدامات کے بجائے ان وجوہات کو بھی دور کیا جائے جو بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا باعث بنتی ہیں۔

منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کی صورت میں صوبے کے لاکھوں بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنے، اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے اور مستقبل میں نوجوانوں کے لیے بہتر تعلیمی و ہنری مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Related posts

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اعلان

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا بڑا فیصلہ: خطرناک اسکول عمارتیں فوری خالی کرنے کا حکم

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ: نویں جماعت کے پریکٹیکل پیپرز کی ای مارکنگ کا اعلان