ہائیکو، چین: چین کے جنوبی صوبے ہینان میں ایک 39 سالہ سیاح سات دن تک کھلے سمندر میں پھنسے رہنے کے باوجود حیران کن طور پر زندہ بچ گیا۔ شدید بھوک، پیاس، سورج کی تپش اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے اس شخص کی زندگی دو ماہی گیروں کی بروقت مدد سے بچ سکی۔
چِن نامی شخص کا تعلق صوبہ گوانگشی سے ہے اور وہ سیاحت کی غرض سے ہینان آئے ہوئے تھے۔ 27 مئی کو وہ ہائیکو کے ساحل کے قریب چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک تیز لہروں اور سمندری بہاؤ نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ان کا موبائل فون بھی گم ہوگیا اور وہ مدد طلب کرنے سے محروم ہوگئے۔
چِن نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی باقاعدہ سمندری تیراکی نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی حفاظتی جیکٹ یا بچاؤ کا سامان موجود تھا۔ گہرے پانیوں میں بہہ جانے کے بعد انہوں نے جسمانی وزن کم رکھنے کے لیے اپنی پتلون، جوتے، گھڑی اور انگوٹھی تک اتار دی تاکہ زیادہ دیر تک پانی میں خود کو سنبھال سکیں۔
حادثے کے اگلے روز انہیں سمندر میں تیرتا ہوا ایک بُوئی (Buoy) نظر آیا، جس تک پہنچنے میں وہ کامیاب ہوگئے۔ یہی بُوئی اگلے کئی دنوں تک ان کی زندگی کا واحد سہارا بنی رہی۔ وہ اس پر سوار ہوکر سمندر میں بہتے رہے اور کسی امدادی کشتی یا جہاز کی تلاش میں افق کو تکتے رہے۔
چِن کے مطابق تیسرے دن انہیں اندازہ ہوا کہ وہ چیونگژو آبنائے (Qiongzhou Strait) کے علاقے میں موجود ہیں، جو صوبہ گوانگ ڈونگ اور ہینان کے درمیان واقع ہے۔ اس دوران کئی کشتیاں دور سے گزریں لیکن کوئی بھی انہیں دیکھ نہ سکی۔
بھوک اور پیاس نے چوتھے اور پانچویں دن ان کی حالت انتہائی خراب کردی۔ خوراک کی عدم دستیابی کے باعث انہوں نے سمندر سے پکڑے گئے تقریباً 80 چھوٹے کیکڑے کچے ہی کھا لیے۔ شدید جسمانی کمزوری اور تنہائی کے باعث انہیں واہموں اور ذہنی الجھنوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ساتویں دن ان کی قسمت نے ساتھ دیا جب دو مقامی ماہی گیروں نے سمندر میں ایک شخص کو بُوئی پر موجود دیکھا۔ ماہی گیروں نے انہیں بچانے کے لیے ایک ڈنڈا آگے بڑھایا، تاہم اس وقت چِن کی ذہنی حالت اس قدر متاثر ہوچکی تھی کہ انہیں محسوس ہوا جیسے کوئی دوست انہیں رات کے کھانے پر بلانے آیا ہو۔
ماہی گیروں نے فوری طور پر انہیں اپنی کشتی میں منتقل کیا، پانی پلایا اور مسلسل گفتگو کرتے رہے تاکہ وہ بے ہوش نہ ہوجائیں۔ بعد ازاں انہیں خشک کپڑے پہنائے گئے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے چِن کو تسلی دیتے ہوئے کہا، “اب تم ہمارے ساتھ ہو، ہم تمہیں مرنے نہیں دیں گے۔”
نجات کے بعد چِن کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں داخل کیا۔ طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ وہ شدید ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھے، سورج کی تیز شعاعوں کے باعث ان کی جلد بری طرح متاثر ہوچکی تھی جبکہ نظامِ ہاضمہ میں سوجن بھی پائی گئی، جس کی ممکنہ وجہ کچے کیکڑوں کا استعمال تھا۔
چند روز علاج کے بعد ڈاکٹروں نے ان کی حالت میں بہتری آنے پر انہیں عام وارڈ منتقل کردیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق چِن اب خطرے سے باہر ہیں اور صحت یابی کی جانب گامزن ہیں۔
اس غیر معمولی واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چِن نے کہا، “جب میں سمندر میں تنہا تھا تو میں خود سے یہی کہتا رہا کہ میں اس طرح نہیں مر سکتا۔ مجھے زندہ رہنا ہے۔”
انہوں نے اپنے محسن ماہی گیروں کے لیے گہرے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ ضرور ان دونوں افراد سے دوبارہ ملاقات کریں گے اور ان کا شکریہ ادا کریں گے۔
یہ واقعہ انسانی حوصلے، زندہ رہنے کی خواہش اور بروقت امداد کی اہمیت کی ایک منفرد مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے چین بھر میں لوگوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔