وزیر خزانہ کا دعویٰ: پاکستان معاشی استحکام سے ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے

اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور حکومت معاشی استحکام کے بعد اب پائیدار اقتصادی ترقی کے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں عوام، کاروباری شعبے اور برآمدات کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کم آمدنی والے ملازمین پر عائد 5 فیصد انکم ٹیکس کی شرح کم کرکے ایک فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 15 فیصد ٹیکس سلیب کو کم کرکے 13 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کو عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو متحرک کرنے کے لیے مختلف ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے تاکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور زرعی کریڈٹ کا حجم 15 فیصد بڑھ کر 2 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی زرعی ترقی کی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کے حصول کے لیے اپنے گھر یا جائیداد گروی رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے انہیں مالی سہولت میسر آئے گی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے قرض اسکیم کا مجموعی حجم 262 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 125 ارب روپے زرعی شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے زرعی مشینری کی درآمد کو سستا بنانے کے لیے کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے اور اقتصادی اشاریے مثبت سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے بجٹ میں ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے متعدد عملی اقدامات شامل کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی بھی مختص کی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائی جا سکے۔

توانائی کے شعبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ انرجی انفراسٹرکچر پر دباؤ موجود ہے اور آئندہ مالی سال میں بھی یہ چیلنج برقرار رہ سکتا ہے، تاہم حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور وفاقی حکومت کی معاونت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مالی سہولت آئندہ تین برس تک جاری رہے گی، جس سے قومی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دے گی تاکہ ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

Related posts

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے سے مہنگائی میں کمی آئے گی، وزیر خزانہ کا دعویٰ

وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی دعوت، ’’میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہیں‘‘

بجٹ 2026-27: لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیکس، الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے لیے مراعات برقرار