طلبہ احتجاج پر خونریز کریک ڈاؤن کی منظوری حسینہ واجد نے دی تھی، آڈیو لیک سے تصدیق

ڈھاکا: بنگلا دیش میں پچھلے سال طلبہ احتجاج پر خونریز کریک ڈاؤن کی منظوری اُس وقت کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے دی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی)کے تحقیقاتی یونٹ ’BBC Eye‘ کی تصدیق شدہ آڈیو کال میں یہ بات سامنے آئی، یہ آڈیو مارچ میں لیک ہوئی تھی۔

اس آڈیو میں شیخ حسینہ واجد نے سکیورٹی فورسز کو طلبہ کے خلاف مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی اور کہا کہ وہ جہاں بھی نظر آئیں انہیں گولی مار دی جائے۔ 

واضح رہے  کہ اگست 2024 میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف چلنے والی طلبہ تحریک کے دوران ایک ہزار سے زائد افرادکی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد حسینہ واجد حکومت کا خاتمہ ہوا، سابق بنگلادیشی وزیراعظم ملک سے فرار ہوگئیں اور انہیں بھارت میں پناہ لینا پڑی۔

Related posts

ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے 6 اہم شرائط رکھ دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کو ایک مرتبہ پھر سخت پیغام دے دیا