غزہ جنگ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اوسطاً ہر گھنٹے ایک فلسطینی بچہ شہید ہوا

A mourner carries the body of a child during the funeral of Palestinians from the Azzam family, killed in an overnight Israeli strike on their house, according to medics, before burying them in a plot of land due to the lack of space in Gaza's overcrowded cemeteries, in Gaza City July 15, 2025. REUTERS/Khamis Al-Rifi TPX IMAGES OF THE DAY

غزہ میں گزشتہ تقریباً 2 سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اوسطاً ہر گھنٹے میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہوا۔

ترک میڈیا کے مطابق  غزہ میں ہر گزرتا لمحہ ایک اور فلسطینی بچے کی جان لے رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے نتیجے میں اب تک  18 ہزار 592 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں جو گزشتہ 22 ماہ کے دوران غزہ میں ہونے والی کل ہلاکتوں کا 31 فیصد ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے  یونیسف نے غزہ کو ’دنیا میں بچوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ‘ قرار دے دیا ہے کیونکہ یہاں نہ صرف بچوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل بن چکی ہے بلکہ ہزاروں بچے زخمی، معذور اور یتیم ہو چکے ہیں۔ 

غزہ میں بعض نومولود بچوں کو زندگی کی صرف چند گھڑیاں نصیب ہوئیں اور وہ  پیدائش کے چند ہی گھنٹوں بعد بمباری کا نشانہ بن گئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت سے غزہ میں اب تک 60 ہزار 839 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 49 ہزار 588 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

Related posts

دورۂ چین کے دوران امریکی وفد نے سخت سائبر سکیورٹی اقدامات اپناتے ہوئے چینی حکام کی جانب سے دی گئی تمام اشیا چین میں ہی چھوڑ دیں

پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات تاحال ناکام نہیں ہوئے،عباس عراقچی

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی تاریخی ملاقات، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے سفارت کاری پر زور