امریکا کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’منٹ مین تھری‘ کا کامیاب تجربہ

واشنگٹن: امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد بین البراعظمی بیلسٹک میزائل منٹ مین تھری (Minuteman III) کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ تجربہ بدھ کی صبح کیلیفورنیا کے وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے کیا گیا۔ امریکی ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کا کہنا ہے کہ میزائل نے تقریباً 4 ہزار 200 میل کا فاصلہ طے کیا اور مارشل جزائر میں موجود رونالڈ ریگن بیلسٹک میزائل ڈیفنس ٹیسٹ سائٹ پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

یہ تجربہ، جسے GT 254 کا نام دیا گیا ہے، امریکی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کی درستگی اور کارکردگی جانچنے کے لیے کیے جانے والے معمول کے تجربات کا حصہ تھا۔ ترجمان کے مطابق استعمال کیا گیا میزائل غیر مسلح تھا اور اس میں ٹیسٹ ری انٹری وہیکل نصب تھا جس کے ذریعے پرواز کے دوران مختلف ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منٹ مین تھری امریکا کے جوہری دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے گا جب ملک کو کسی جوہری حملے کا سامنا ہو۔

اگرچہ یہ تجربہ پہلے سے طے شدہ تھا، تاہم اسے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ اس وقت ملی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ امریکا کو تین دہائیوں بعد دوبارہ جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ شروع کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو اس عمل کی فوری شروعات کا حکم دے دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی سطح پر دفاعی توازن اور اسلحہ کنٹرول کے حوالے سے نئی بحث چھڑ سکتی ہے

Related posts

دورۂ چین کے دوران امریکی وفد نے سخت سائبر سکیورٹی اقدامات اپناتے ہوئے چینی حکام کی جانب سے دی گئی تمام اشیا چین میں ہی چھوڑ دیں

پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات تاحال ناکام نہیں ہوئے،عباس عراقچی

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی تاریخی ملاقات، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے سفارت کاری پر زور