حماس کا سلامتی کونسل کی قرارداد مسترد — بین الاقوامی فورس کی تعیناتی غزہ پر سرپرستی مسلط کرنے کے مترادف قرار

غزہ: حماس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ کے لیے منظور کی گئی قرارداد اور اس کے تحت بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ قرارداد نہ تو فلسطینی عوام کے سیاسی و انسانی مطالبات پوری کرتی ہے اور نہ ہی ان کے قانونی حقوق کی عکاسی کرتی ہے۔

“بین الاقوامی سرپرستی قبول نہیں” — حماس

حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قرارداد غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرتی ہے، جسے فلسطینی عوام اور تمام مزاحمتی دھڑے قبول نہیں کریں گے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی فورس کو غزہ کے اندر کارروائیوں کا اختیار دینا—خصوصاً مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا—اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فورس غیر جانبدار نہیں رہے گی بلکہ قابض اسرائیل کے حق میں فریق بن جائے گی۔

فورس کہاں تعینات ہو؟

حماس نے کہا کہ اگر کوئی بین الاقوامی فورس قائم کی جاتی ہے تو اسے:
• صرف غزہ کی سرحدوں پر تعینات ہونا چاہیے
• جنگ بندی کی نگرانی کرنی چاہیے
• اور یہ فورس مکمل طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونی چاہیے

“مزاحمت ہمارا حق ہے”

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں، جس کی اجازت بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت موجود ہے۔ حماس نے ہتھیار ڈالنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

عالمی برادری سے مطالبہ

حماس نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو:
• غزہ پر جاری ”وحشیانہ نسل کش جنگ“ کے خاتمے
• غزہ کی تعمیرِ نو
• اسرائیلی قبضے کے خاتمے
• فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت
• اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام (جس کا دارالحکومت القدس ہو)

کے لیے مؤثر ثابت ہوں۔

Related posts

پینٹاگون پر میزائلوں کی کمی چھپانے کا الزام، امریکا کی جنگی تیاریوں پر سنگین سوالات

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی معیشت پر عوام غیر مطمئن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی