امریکی تجزیہ کار: ٹرمپ کی مادورو کو ہٹانے کی کوشش مڈل ایسٹ کے سبق کو بھولنے کے مترادف

واشنگٹن: امریکی جریدے ٹائم کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوشش ظاہر کرتی ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں گذشتہ 25 سال کی ناکام مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مادورو غیر مقبول ہیں اور وینزویلا کی فوج نسبتاً کمزور ہے، لیکن ان کی حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات امریکی سرزمین کے قریب بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، جن میں مہاجرین کا بحران، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کی طرز پر نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین میں تقریباً 15 ہزار فوجی، جدید طیارے، میزائل اور ڈرون تعینات کیے ہیں، لیکن یہ مکمل حملے یا وینزویلا پر قبضے کے لیے ناکافی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے حال ہی میں وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر امریکہ منتقل کیا۔ امریکی حکومت کے اس اقدام نے خطے میں سیاسی کشیدگی بڑھا دی ہے اور عالمی تجزیہ کار اس کی ممکنہ پیچیدگیوں پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

Related posts

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی معیشت پر عوام غیر مطمئن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی

امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور امریکا ناقابلِ اعتماد ہے، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت بیان