بنگلادیش میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری، 12 کروڑ سے زائد ووٹرز آج حق رائے دہی استعمال کریں گے

ڈھاکہ: بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے، جہاں ملک بھر میں ووٹرز نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 50 سے زائد سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ 12 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

پولنگ کا شیڈول اور حلقے

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ کا آغاز ہوا جو شام 4:30 بجے تک بغیر وقفے کے جاری رہے گا۔
قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں کے لیے امیدوار میدان میں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 151 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوگی۔

بڑی سیاسی جماعتیں اور امیدوار

انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، بنگلادیش جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی، جماعتی پارٹی سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
بی این پی کی جانب سے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے شفیق الرحمان کو وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا مضبوط امیدوار نامزد کیا ہے۔

عوامی لیگ کی عدم شرکت

رپورٹس کے مطابق عوامی لیگ کے امیدوار اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی، جسے اگست 2024 میں سیاسی تبدیلی کے بعد ابھرتی ہوئی قوت قرار دیا جا رہا ہے، جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے۔

امیدواروں کا ووٹ کاسٹ کرنا

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امن و امان کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہوگی تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے خواتین کی فلاح کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیا اور انتخابی کامیابی کی امید ظاہر کی۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور کہا کہ یہ انتخابات بنگلادیش کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ عوام کی توقعات اور مطالبات تبدیل ہو رہے ہیں۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

عام انتخابات کے دوران ملک بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ انتخابات کو شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

سروے اور ممکنہ نتائج

ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق بی این پی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کے اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے، جس کے باعث دونوں بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان سخت مقابلے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

Related posts

ایران کی میزائل صلاحیت ریڈ لائن ہے، کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی: علی شمخانی کا دوٹوک مؤقف

امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ: بھارتی کسان تنظیموں کا ملک گیر احتجاج اور 12 فروری کی ہڑتال کا اعلان

مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی ردعمل تیز، امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک کے بیانات سامنے آگئے