پی ایس ایل 11 میں منتخب نہ ہونے پر احمد شہزاد لائیو شو میں آبدیدہ، بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے

کراچی: پاکستان کے اوپننگ بلے باز احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے منتخب نہ ہونے پر نجی ٹی وی کے ایک لائیو پروگرام میں جذباتی ہو گئے اور اپنے دل کی بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساتھی کھلاڑیوں کی کامیابی پر خوشی ضرور ہوتی ہے مگر خود کو میدان سے دور دیکھ کر دل دکھتا ہے۔

لائیو شو میں جذباتی لمحات

جیو نیوز کے پروگرام ہنسنا منع ہے میں احمد شہزاد اور فاسٹ بولر محمد عامر بطور مہمان شریک تھے۔ میزبان تابش ہاشمی کے سوال کے جواب میں احمد شہزاد نے کہا کہ پی ایس ایل کے لیے منتخب نہ ہونا ان کے لیے ایک تکلیف دہ احساس ہے۔
انہوں نے کہا، “مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، ساتھی کھلاڑیوں کو دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے لیکن اپنے لیے افسردہ ہو جاتا ہوں۔”

بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ

گفتگو کے دوران احمد شہزاد اس وقت مزید جذباتی ہوگئے جب انہوں نے اپنے بیٹے کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا اب 9 سال کا ہو چکا ہے اور انہیں دوبارہ میدان میں کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا، “وہ میرے ساتھ رات کو سوتا ہے اور میرا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے کہ بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے، اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا۔”

یہ باتیں کرتے ہوئے احمد شہزاد کی آنکھیں نم ہوگئیں اور انہوں نے اعتراف کیا کہ یہی وہ لمحے ہیں جو انہیں اندر سے متاثر کرتے ہیں۔

مستقبل کے بارے میں کیا کہا؟

احمد شہزاد نے کہا کہ وہ مجموعی طور پر زندگی میں خوش ہیں، تاہم کرکٹ سے دوری ایک ایسی چیز ہے جو ان کے دل کو دکھاتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں دوبارہ بہترین کارکردگی کے ذریعے مواقع حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

شائقین کا ردعمل

پروگرام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مداحوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کچھ شائقین نے احمد شہزاد کے جذبات کو سراہتے ہوئے ان کی واپسی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ بعض نے پی ایس ایل سلیکشن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔

Related posts

تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ پھر ناکام، انگلینڈ کے خلاف 133 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع، موبائل ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کو روایتی شیڈول سے پہلے جنوری میں منعقد کرانے کی تجویز