پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کو روایتی شیڈول سے پہلے جنوری میں منعقد کرانے کی تجویز

کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اگلے ایڈیشن کو روایتی شیڈول سے پہلے جنوری میں منعقد کرانے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پی ایس ایل کی تمام آٹھ فرنچائزز کے مالکان نے ٹورنامنٹ کی نئی ونڈو پر غور شروع کردیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق لندن میں پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس میں لیگ کے آئندہ ایڈیشن کے شیڈول سمیت مختلف اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل کو جنوری میں منتقل کرنے کی تجویز کی بنیادی وجہ اپریل اور مئی کے دوران اشتہاری آمدنی میں ممکنہ کمی کا خدشہ ہے۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ٹورنامنٹ کو اگر ایک بار پھر اپریل اور مئی کی ونڈو میں منعقد کیا جاتا ہے تو اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی توقعات کے مطابق نہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
فرنچائزز کو براڈکاسٹ آمدنی پر تحفظات
پی ایس ایل فرنچائزز نے ٹورنامنٹ کی ونڈو تبدیل کرنے کے حوالے سے اپنی تشویش بھی ظاہر کی ہے۔ فرنچائز مالکان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ٹورنامنٹ سال کے کسی بھی حصے میں منعقد ہو، کیا انہیں براڈکاسٹ ریونیو میں اپنا مکمل حصہ حاصل ہوگا یا نہیں۔
موجودہ معاہدے کے تحت پی ایس ایل کی تمام فرنچائزز کو مرکزی ریونیو پول سے حاصل ہونے والی براڈکاسٹ آمدنی کا 95 فیصد حصہ ملتا ہے۔ تاہم ٹی وی رائٹس سے توقعات کے مطابق آمدنی نہ ملنے کی صورت میں اشتہاری آمدنی اور مجموعی ریونیو پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پی ایس ایل کی ونڈو میں مسلسل تبدیلی
پی ایس ایل کے ابتدائی نو ایڈیشنز عموماً فروری اور مارچ کے دوران کھیلے گئے تھے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول کے باعث لیگ کی ونڈو میں تبدیلی کرنا پڑی۔
2025 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جبکہ رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے باعث پی ایس ایل کے گزشتہ دو ایڈیشنز کو اپریل اور مئی میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھارتی پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ساتھ بھی ہوا۔
پی ایس ایل کو آئی پی ایل کے ساتھ کرانے کا ایک فائدہ یہ سامنے آیا کہ غیر ملکی کھلاڑی بڑی تعداد میں دستیاب رہے، کیونکہ ماضی میں دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز کے ساتھ ٹکراؤ کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی فرنچائزز کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔
جنوری میں انعقاد کے ساتھ نیا چیلنج
دوسری جانب جنوری اور فروری کی ونڈو میں واپسی سے پی ایس ایل کو غیر ملکی کھلاڑیوں کے حصول کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس عرصے کے دوران آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (BBL) اور جنوبی افریقا کی SA20 بھی جاری ہوتی ہیں، جس کے باعث غیر ملکی کرکٹرز کی دستیابی اور ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے پی ایس ایل کو ان لیگز سے مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
موسم سرما بھی بڑا چیلنج
جنوری میں پی ایس ایل کے انعقاد کی صورت میں پی سی بی کو موسمی اور انتظامی مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، خصوصاً پنجاب میں موسم سرما کی شدت ٹورنامنٹ کے انتظامات کو متاثر کرسکتی ہے۔
پی ایس ایل کے چار روایتی وینیوز میں سے لاہور، ملتان اور راولپنڈی پنجاب میں واقع ہیں۔ جنوری اور فروری میں ان شہروں میں رات کے وقت درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ تک گرنے کے علاوہ شدید دھند بھی معمول بن سکتی ہے۔
دھند کے باعث ٹیموں اور دیگر متعلقہ افراد کے سفر، فلائٹ آپریشنز اور میچز کے انعقاد میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
کراچی سے آغاز کی تجویز
موسمی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کا آغاز کراچی سے کیا جائے، جہاں موسم سرما کے دوران موسم نسبتاً معتدل رہتا ہے۔
اس تجویز کے تحت ٹورنامنٹ آگے بڑھنے کے ساتھ میچز پنجاب اور پشاور منتقل کیے جاسکتے ہیں، کیونکہ فروری کے دوران موسم کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہوگا۔
نومبر سے مارچ تک بین الاقوامی ونڈو دستیاب
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت نومبر کے وسط سے مارچ تک ایک نسبتاً واضح بین الاقوامی کرکٹ ونڈو موجود ہے، جس میں قومی ٹیم کی کوئی بڑی ہوم یا اوے سیریز شیڈول نہیں ہے۔
قومی ٹیم اکتوبر اور نومبر میں سری لنکا اور انگلینڈ کی میزبانی کرے گی، جس کے بعد مارچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی۔ یہ سیریز موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں پاکستان کی آخری ٹیسٹ اسائنمنٹ ہوگی۔
یوں پی سی بی کے سامنے پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کے لیے جنوری کی ونڈو ایک ممکنہ آپشن کے طور پر موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ فرنچائزز، براڈکاسٹ آمدنی، غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی، موسم اور انتظامی معاملات سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

Related posts

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع، موبائل ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا

100 کلومیٹر سے زائد دوڑنے کے بعد بولنگ، برطانوی کرکٹر نے انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کردی

قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر محسن نقوی کا اظہارِ افسوس، بورڈ کے فیصلوں پر تنقید کرنے والوں کو بھی جواب دے دیا