جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکا۔ایران معاہدے کا امکان، جنیوا میں اہم سفارتی پیش رفت متوقع

پیرس/جنیوا: ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان ایک متوقع معاہدے پر دستخط آئندہ چند روز میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ سے وابستہ ذرائع کے مطابق اگر موجودہ سفارتی ماحول برقرار رہا اور امن کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کوئی غیر متوقع پیش رفت نہ ہوئی تو معاہدہ جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر یا اس سے قبل طے پا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کو ترجیحی مقام کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہے۔ بعض سفارتی حلقوں کے مطابق دستخطی تقریب 14 جون کو بھی منعقد ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری مؤقف کے مطابق معاہدے کے وقت اور مقام کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور وسیع تر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات زیر بحث ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر اتفاق رائے کی کوششیں جاری ہیں، جسے خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نمائندگی کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔ تاہم ان ناموں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان، جس نے حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا، اس موقع پر اپنا اعلیٰ سطحی وفد بھیج سکتا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات کا انتظار ہے۔

ادھر 15 سے 17 جون تک فرانس کے شہر ایویان میں ہونے والے جی سیون سربراہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین تنازع، عالمی اقتصادی چیلنجز، توانائی کی سلامتی، مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی شراکت داری جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس میں جی سیون کے رکن ممالک — امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کے علاوہ یورپی یونین کی قیادت بھی شریک ہوگی۔

عالمی سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال کے تناظر میں جسے عالمی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Related posts

امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، ایران کی جہاز رانی محدود کرنے کا دعویٰ

ایران جنگ کے اثرات دبئی کی سیاحت پر نمایاں، لگژری ہوٹل مقامی مہمانوں کے سہارے چلنے لگے

پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام، عرب میڈیا کا تجزیہ