مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے سے مہنگائی میں کمی آئے گی، وزیر خزانہ کا دعویٰ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے، تاہم جیسے ہی خطے میں حالات معمول پر آئیں گے، پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ملکی معیشت، مہنگائی اور آئندہ مالی سال کے اقتصادی اہداف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی اور علاقائی حالات سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز کا ادراک ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق حالیہ مہینوں میں افراط زر کی رفتار میں جو اضافہ دیکھا گیا، اس کے پیچھے بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈیوں میں تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اس کشمکش کے اثرات مرتب ہوئے، جس کا براہ راست اثر پاکستان سمیت متعدد درآمدی معیشتوں پر پڑا۔

وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کو توقع ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 7 فیصد رہے گی، جو رواں مالی سال کے تخمینے 7.5 فیصد سے کم ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو حکومتی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی نظم و ضبط کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت نے استحکام کی جانب پیش رفت جاری رکھی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر مہنگائی کے اثرات کم سے کم ہوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات میں کمی آتی ہے اور خطے میں امن و استحکام بحال ہوتا ہے تو عالمی سپلائی چینز اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں بھی مہنگائی کی شرح مزید نیچے آنے کے امکانات روشن ہوں گے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسی درآمدی معیشتیں عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارتی حالات سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں، اس لیے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام نہ صرف عالمی بلکہ مقامی معاشی اشاریوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اقتصادی استحکام، قیمتوں پر کنٹرول اور عوامی ریلیف کے لیے اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھے گی تاکہ آنے والے برسوں میں مہنگائی کو مزید کم سطح پر لایا جاسکے۔

Related posts

وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی دعوت، ’’میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہیں‘‘

بجٹ 2026-27: لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیکس، الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے لیے مراعات برقرار

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف، متعدد آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز