وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی دعوت، ’’میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہیں‘‘

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کو قومی مفاہمت، جمہوری استحکام اور معاشی ترقی کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے اظہارِ خیال کا آغاز سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل وطن کے دفاع میں 22 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور اپنے خاندانوں کو غم میں چھوڑ کر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کے ننھے بچے شاید یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ ان کے والد ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اس لیے پوری قوم پر لازم ہے کہ ان قربانیوں کا احترام اور ان شہدا کی یاد کو زندہ رکھا جائے۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے نظریات، پروگرام اور ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم پاکستان کی ترقی اور استحکام سب کا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آئیں میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کی جانب پیش قدمی کریں تاکہ قومی مسائل کا حل اتفاق رائے سے نکالا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی اور معیشت کی بہتری کے لیے قومی سطح پر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سیاست اپنی جگہ لیکن قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے، کیونکہ مضبوط پاکستان ہی تمام سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کی بنیاد ہے۔

وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چاروں صوبوں کی مساوی ترقی ان کی آئینی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

شہباز شریف نے بلوچستان کی ترقی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو قومی دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کے عوام کا حصہ واضح اور محفوظ ہے اور اس حوالے سے تمام تفصیلات عوام کے سامنے موجود ہیں۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ نمایاں طور پر بڑھایا گیا تھا، جو صوبے کے حقوق کے اعتراف اور قومی یکجہتی کی مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم، خوبصورت اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جس کے عوام بہادر اور محب وطن ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے 75 ارب روپے کی لاگت سے کسانوں کو سولر توانائی کے منصوبوں سے مستفید کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے بھی جاری ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق گوادر سے چمن تک جدید شاہراہ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے، جس پر تقریباً 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کی جا رہی ہے اور اس سے بلوچستان میں تجارت، آمدورفت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے ایک بار پھر قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد، مکالمے اور مشترکہ قومی حکمت عملی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

Related posts

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے سے مہنگائی میں کمی آئے گی، وزیر خزانہ کا دعویٰ

بجٹ 2026-27: لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیکس، الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے لیے مراعات برقرار

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف، متعدد آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز