بجٹ 2026-27: لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیکس، الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے لیے مراعات برقرار

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں درآمدی اور بڑی انجِن صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے لگژری گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے نئی مالیاتی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک کی اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (SUVs) پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درآمدی اور مہنگی گاڑیوں پر ٹیکس نیٹ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق 3 ہزار سی سی سے زائد انجِن صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر پہلے سے عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں مزید اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جس سے لگژری گاڑیوں کی درآمد اور خریداری پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
بجٹ تجاویز میں 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ آٹو موبائل سیکٹر کی طویل المدتی ترقی کے لیے نئی آٹو پالیسی پر کام جاری ہے، جو وزیر اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کے زیر غور ہے۔ توقع ہے کہ نئی پالیسی میں مقامی صنعت کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور ماحول دوست گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اقدامات شامل ہوں گے۔
دوسری جانب حکومت نے الیکٹرک موٹرسائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ ٹیکس مراعات اور سہولتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ اقدام صاف اور کم لاگت ٹرانسپورٹ کے فروغ کے حکومتی وژن کا حصہ ہے۔
بجٹ میں الیکٹرک کمرشل ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مال برداری کے شعبے میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔
علاوہ ازیں حکومت نے بیرون ملک بزنس کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بین الاقوامی بزنس کلاس سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس سے فضائی سفر کے اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بجٹ کی یہ تجاویز ایک جانب لگژری اور مہنگی گاڑیوں پر ٹیکس بوجھ بڑھاتی ہیں، جبکہ دوسری جانب ماحول دوست الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور کاروباری سفر کے شعبے کو مخصوص مراعات فراہم کرتی ہیں، جو حکومتی مالیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔

Related posts

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے سے مہنگائی میں کمی آئے گی، وزیر خزانہ کا دعویٰ

وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی دعوت، ’’میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہیں‘‘

بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑا ریلیف، متعدد آمدنی سلیبز میں انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز