بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی، فائلرز کو ریلیف دینے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینا اور دستاویزی معیشت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے پراپرٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور فائلرز کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس بھی 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق ٹیکس کی شرحوں میں یہ کمی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے اور قانونی ذرائع سے جائیداد کی خرید و فروخت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے پراپرٹی کی خرید و فروخت کی لاگت کم ہوگی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں جمود کے خاتمے اور لین دین کے حجم میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ اس اقدام سے تعمیراتی صنعت اور اس سے وابستہ دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر رہے ہیں، جس میں مختلف شعبوں کے لیے متعدد مالیاتی اور ٹیکس اصلاحات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

Related posts

آئی ایم ایف سولر پینلز اور اسٹیشنری پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز سے دستبردار، حکومت کی بڑی کامیابی

آئی ایم ایف کی منظوری کے منتظر بجٹ 2026-27 میں ٹیکس ریلیف اور نئے محصولات کی تجاویز، حکومت کو محصولات کا بڑا چیلنج درپیش

آئی ایم ایف شرائط کے باعث ترقیاتی اخراجات محدود، وفاقی ترقیاتی پروگرام کا نصف بجٹ بھی استعمال نہ ہو سکا