واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین شخص Elon Musk ایک نئے مالیاتی سنگِ میل کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد ہی دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر (ایک ہزار ارب ڈالر کے مالک) بن جائیں گے۔
بین الاقوامی مالیاتی رپورٹس کے مطابق 11 جون 2026 کو ایلون مسک کی مجموعی دولت میں ایک ہی دن کے دوران ریکارڈ 274 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت 971 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر ان کی خلائی کمپنی SpaceX کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ویلیو اور سرمایہ کاروں کی غیرمعمولی دلچسپی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد عبور کرنے کے لیے ایلون مسک کو اب صرف 29 ارب ڈالر مزید درکار ہیں، جو اسپیس ایکس کے مجوزہ حصص کی فروخت کے بعد باآسانی حاصل ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کی متوقع مارکیٹ ویلیو تقریباً 1.75 ٹریلین ڈالر بتائی جا رہی ہے، جو اسے دنیا کی سب سے قیمتی نجی کمپنیوں میں شامل کر دے گی۔
ایلون مسک اسپیس ایکس کے تقریباً 42 فیصد حصص کے مالک ہیں، جس کے باعث کمپنی کی قدر میں ہونے والا ہر اضافہ براہِ راست ان کی ذاتی دولت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک ان کی دولت میں 351 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے، جو جدید تاریخ میں کسی فرد کی دولت میں ہونے والے تیز ترین اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
خلائی صنعت میں انقلاب لانے والی کمپنی
اسپیس ایکس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ کمپنی نے دنیا کے پہلے قابلِ دوبارہ استعمال راکٹس تیار کیے، جس سے خلائی مشنز کی لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ اسی طرح کمپنی کا اسٹار لنک سیٹلائٹ نیٹ ورک دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مواصلاتی شعبوں میں بڑھتی سرمایہ کاری نے اسپیس ایکس کی قدر میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ ایلون مسک کو پہنچ رہا ہے۔
دولت اور عالمی عدم مساوات پر نئی بحث
دوسری جانب عالمی فلاحی تنظیم Oxfam کی ایک تحقیق نے ایلون مسک کی دولت کے حجم کو نئی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق 2025 کے دوران ایلون مسک کی دولت میں اوسطاً ہر منٹ ایک ملین ڈالر (10 لاکھ ڈالر) سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ پورے سال میں ان کی مجموعی دولت میں 550 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کے پاس دنیا کی تقریباً 46 فیصد غریب ترین آبادی کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ اثاثے موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار عالمی معاشی عدم مساوات کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔
دولت کا حجم کتنا بڑا ہے؟
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فرض کیا جائے کہ ایلون مسک کی دولت میں مزید کوئی اضافہ نہ ہو اور وہ روزانہ 10 لاکھ ڈالر خرچ کرنا شروع کر دیں، تب بھی ان کی موجودہ دولت ختم ہونے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔
اسی طرح بعض تخمینوں کے مطابق اگر وہ دنیا کے ہر فرد کو 100 ڈالر فراہم کریں تو بھی ان کے پاس سیکڑوں ارب ڈالر باقی رہیں گے اور وہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں نمایاں مقام برقرار رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپیس ایکس کی متوقع سرمایہ کاری کامیاب رہی تو آنے والے دنوں میں ایلون مسک باضابطہ طور پر انسانی تاریخ کے پہلے ٹریلین ڈالر مالک شخص بن سکتے ہیں، جو عالمی کاروباری دنیا میں ایک غیرمعمولی اور تاریخی واقعہ ہوگا۔