امریکا نے ایران سے تعلقات کی بحالی کو شرائط سے مشروط کردیا، جے ڈی وینس کا اہم بیان

واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی شروعات کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ایرانی قیادت اپنے جوہری پروگرام اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والی پالیسیوں سے دستبردار ہو۔

اپنے ایک بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن اور استحکام کے قیام کی خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک ایسے مستقبل کا تصور رکھتا ہے جہاں خطے کے تمام ممالک امن، ترقی اور خوشحالی کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے بعد اب آگے بڑھنے اور تعلقات کو نئی سمت دینے کا وقت آ گیا ہے۔ نائب صدر کے مطابق ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے انتہائی محدود رہے، تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کے آغاز کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور ایرانی عوام سے براہِ راست روابط بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سفارتی کوششوں کا مقصد جاری بحرانوں کا خاتمہ اور خطے میں امن و ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران علاقائی تنازعات میں مداخلت ترک کرتا ہے اور اپنے جوہری عزائم کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے تو امریکا ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور وسیع تر تعاون کے لیے تیار ہوگا۔

دریں اثنا امریکی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت ملکی قیادت کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکمت عملی اور سفارتی کاوشوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف عسکری قیادت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ ایک مؤثر سفارتکار کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول اگر یہ سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو موجودہ پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی نائب صدر کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، تاہم مستقبل کے تعلقات کا انحصار ایران کی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر ہوگا۔

Related posts

اسرائیلی سروے میں حیران کن انکشافات، اکثریت نے ایران کو جنگ کا فاتح قرار دے دیا

سوئٹزرلینڈ مذاکرات: جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہ دیا

برگن اسٹاک میں اہم سفارتی سرگرمیاں، پاکستانی اور ایرانی قیادت کے درمیان ملاقات