ایران نے امریکی دھمکیوں کے بعد مذاکرات ختم کر دیے، باقر قالیباف نے اندرونی تفصیلات بیان کر دیں

تہران: ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات کی اندرونی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کی دھمکی آمیز گفتگو کے باعث ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد وطن واپسی پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران مثبت پیش رفت کی امید پیدا ہو رہی تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال یکسر تبدیل کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی صدر، مذاکراتی ٹیم اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق دیے گئے بیانات کو تہران نے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے آغاز میں طے پانے والی مفاہمت کے پہلے نکتے کے مطابق کسی بھی فریق کی جانب سے دھمکی، دباؤ یا طاقت کے استعمال کی بات نہیں ہونی چاہیے تھی۔

باقر قالیباف کے مطابق ایرانی وفد نے اس معاملے پر فوری طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے احتجاج کیا اور واضح کیا کہ ایران دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے امریکی نمائندوں کو بتایا کہ اگر واشنگٹن واقعی سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے دباؤ اور دھمکی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایرانی وفد مذاکراتی مقام سے روانہ ہوگیا اور دوبارہ مذاکراتی میز پر واپس نہیں آیا۔ ان کے مطابق بعد ازاں امریکا نے مختلف ثالث ممالک کے ذریعے نئی ملاقات کی درخواست بھی کی، تاہم تہران نے براہ راست مذاکرات بحال کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں قطر اور پاکستان کے ثالثی کردار نے اہمیت اختیار کی۔ قطری اور پاکستانی نمائندوں نے ایرانی وفد سے الگ ملاقاتیں کیں اور دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی کوشش کی۔

باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ثالث ممالک کو واضح طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ وہ صرف ثالثوں کے ذریعے رابطے پر آمادہ ہے اور امریکی وفد کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق تقریباً 80 منٹ تک جاری رہنے والی مشاورت اور سفارتی رابطوں کے بعد پاکستان اور قطر نے مشترکہ طور پر مذاکراتی عمل کے نتائج اور پیش رفت سے متعلق اعلامیہ جاری کیا۔

ایرانی چیف مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ تہران اصولی مؤقف پر قائم ہے اور باہمی احترام، برابری اور غیر جانبدار سفارتی ماحول کی موجودگی میں ہی کسی بھی آئندہ مذاکراتی عمل میں حصہ لے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے بجائے باعزت اور متوازن سفارت کاری کو ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔

Related posts

کیئر اسٹارمر کا پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان، نئے قائد کے انتخاب تک عہدے پر برقرار رہیں گے

امریکا نے ایران سے تعلقات کی بحالی کو شرائط سے مشروط کردیا، جے ڈی وینس کا اہم بیان

اسرائیلی سروے میں حیران کن انکشافات، اکثریت نے ایران کو جنگ کا فاتح قرار دے دیا