وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ملک بھر میں شدید تباہی مچا دی ہے، جبکہ آفٹر شاکس کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 589 ہو گئی ہے جبکہ 2,980 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں یکے بعد دیگرے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو شدید زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جن سے متعدد عمارتیں، سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے شدید متاثر ہوئے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سیکڑوں افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امدادی کارروائیاں دن رات جاری ہیں۔ بھاری مشینری اور خصوصی ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
دارالحکومت کاراکس میں کئی رہائشی اور تجارتی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، جبکہ ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ زلزلے سے کاراکس ایئرپورٹ بھی متاثر ہوا، جس کے باعث حفاظتی اقدامات کے تحت فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بڑے زلزلوں کے بعد اب تک ایک درجن سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ ہفتے کے دوران تقریباً 5 شدت کے مزید زلزلے آنے کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر وینزویلا کی قائم مقام صدر نے زلزلہ متاثرہ ساحلی علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی وینزویلا کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکا نے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی ہیں، جبکہ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر ایک لاکھ یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی علاقوں میں امدادی ٹیموں کی رسائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔