ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے 6 اہم شرائط رکھ دی

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے 6 اہم شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے رویے میں تبدیلی تک آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہوگی۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ذوالقدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کو ایرانی مؤقف اور مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ایرانی حکام کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ امریکا کسی بھی وقت اور کسی بھی زبان میں ایران کو دھمکی نہ دے اور ایرانی قوم کی توہین سے بھی گریز کرے۔

ایران نے دوسری شرط کے طور پر ایران اور اس کے اتحادیوں پر مسلط جنگ کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ خطے میں جنگی صورتحال ختم کیے بغیر معمول کے حالات کی بحالی ممکن نہیں۔

تیسری شرط کے تحت ایران نے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی افواج کو ایران کے اطراف سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے بیان کے مطابق تہران کی چوتھی شرط ایران کو جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصانات کا بغیر کسی کمی کے مکمل ہرجانہ ادا کرنا ہے۔

پانچویں شرط میں ایران نے ایرانی قوم پر عائد پابندیوں کو غیر منصفانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ چھٹی شرط کے طور پر ایران نے بیرون ملک موجود ایرانی عوام کے منجمد اور روکے گئے اثاثے غیر مشروط طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ ہو یا مذاکرات، تہران اپنے بنیادی مؤقف اور ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ہرمز میں عارضی بحری راستے پر پیش رفت

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی کے راستے کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر بھی پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی کے راستے سے متعلق ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک نیا بحری راستہ بھی تیار کرلیا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا فیصلہ دیگر عوامل اور مجموعی صورتحال پر منحصر ہوگا۔

امریکا سے مفاہمت کی خلاف ورزی کا ازالہ بھی طلب

عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ صورتحال امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے، اس لیے واشنگٹن کو ان خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔

ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کو صرف بحری جہاز رانی کے معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اس کا تعلق وسیع تر سکیورٹی، جنگ بندی، پابندیوں، امریکی فوجی موجودگی اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمت سے بھی ہے۔

ایران کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے میں مذاکرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں، جبکہ تہران نے واضح کردیا ہے کہ مکمل بحالی کیلئے صرف عارضی بحری راستہ کافی نہیں ہوگا بلکہ امریکا کو ایران کے بنیادی مطالبات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔

Related posts

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کو ایک مرتبہ پھر سخت پیغام دے دیا

امریکا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے نئے راستوں کی تلاش میں، سینٹکام نے اہلکاروں سے ‘غیر روایتی’ تجاویز طلب کرلیں