رانا ثنااللہ کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سسٹم سے متعلق حالیہ بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی آزاد حیثیت میں نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر اور پارٹی کے وزیر داخلہ ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کے ہمراہ سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے سسٹم سے متعلق جو رائے دی، وہ کسی کی ہدایت یا اشارے پر نہیں بلکہ ان کی اپنی سوچ ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کے حوالے سے جو بات کی گئی، اس معاملے پر کسی اور طرف سے مسلم لیگ ن کے ساتھ نہ کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی خواہش سامنے آئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ محسن نقوی مسلم لیگ ن کے سینیٹر ہیں اور پارٹی کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے حکومت کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے بیان کو کسی بیرونی قوت یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے آنے والے پیغام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ “ہم سیاسی لوگ ہیں، جانتے ہیں کہ ریڈ لائن کیا ہوتی ہے اور کیسے کراس ہوتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں کسی کے اشارے یا رابطے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، سیاسی لوگ حالات اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ “ہمیں کسی کی مس کال کی ضرورت نہیں ہے”، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اپنی سیاسی پوزیشن اور معاملات کو سمجھتی ہے اور کسی بھی صورتحال میں اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ محسن نقوی کی جانب سے سسٹم سے متعلق بیان کسی خفیہ مشاورت یا کسی دوسرے فریق کے پیغام کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے تھی اور اس معاملے پر کسی نے مسلم لیگ ن سے رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات میں مختلف رہنماؤں کی آرا سامنے آتی رہتی ہیں، تاہم ہر بیان کو کسی مخصوص منصوبے، پس پردہ رابطے یا سیاسی تبدیلی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

رانا ثنااللہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت محسن نقوی کے حالیہ مؤقف کو پارٹی کی کسی مشترکہ پالیسی یا کسی نئے سیاسی انتظام کی تجویز کے بجائے ان کی ذاتی رائے قرار دے رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے کسی بیرونی اشارے یا رابطے کا انتظار نہیں۔

Related posts

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان سے افغانستان اسلحہ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعوے کو سختی سے مسترد کردیا

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ملکی تاریخ اور خطے کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیشرفت قرار

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب اہم قدم، شہباز شریف