نئے قومی سرویز میں معاشی کارکردگی پر عوامی اعتماد میں کمی، ماہرین نے مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دی
واشنگٹن: امریکا میں جاری معاشی چیلنجز کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی پر عوامی اعتماد مزید کمزور ہو گیا ہے۔ تازہ ترین قومی سرویز کے مطابق معیشت سے متعلق ان کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی ہے، جسے آئندہ سیاسی منظرنامے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دو قومی سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد مہنگائی، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث معاشی صورتحال سے مطمئن نہیں۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں افراطِ زر کی رفتار میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم عام شہریوں کو اس کے اثرات اپنی زندگی میں نمایاں طور پر محسوس نہیں ہو رہے۔
رپورٹ کے مطابق خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی بلند قیمتوں نے صارفین پر مالی دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے باعث صدر ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر عوامی اعتماد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات سے قبل معیشت ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور گھریلو اخراجات میں واضح کمی نہ آئی تو اس کے اثرات کانگریس کے انتخابات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب حالیہ قومی سرویز میں صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت بھی کم سطح کے قریب بتائی گئی ہے، اگرچہ بعض پولز کے مطابق دیہی علاقوں اور ریپبلکن حامی ووٹروں میں انہیں محدود حمایت حاصل ہوئی ہے۔ تاہم مجموعی رجحان یہی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی ووٹرز کی اکثریت کے لیے معیشت اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ افراطِ زر میں نسبتاً کمی کے باوجود عوام کو حقیقی معاشی ریلیف محسوس نہیں ہو رہا، کیونکہ خوراک، رہائش اور روزمرہ زندگی کے دیگر اخراجات بدستور بلند ہیں۔ یہی صورتحال صدر ٹرمپ کی اقتصادی کارکردگی کے بارے میں عوامی رائے پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔