معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا، قومی یکجہتی برقرار رکھنے اور امریکا پر عدم اعتماد کا پیغام دیا
تہران: ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح ہو گئی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر اپنے طرزِ عمل سے دنیا کے سامنے اپنا حقیقی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے بقول وعدہ خلافی، بے ایمانی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ امریکا کی پالیسیوں کا مستقل حصہ بن چکا ہے، جس کے باعث اس پر اعتماد کرنا ممکن نہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے متعلق معاہدے کی مبینہ بار بار خلاف ورزی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی قیادت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور دستخطوں کی کوئی عملی اہمیت باقی نہیں رہی۔
انہوں نے امریکا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھی تو اسے اس کے نتائج اور بھاری قیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں ایرانی عوام اور حکام پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، یکجہتی اور داخلی استحکام کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے ملک کی عزت، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا دنیا میں تنازعات اور جنگوں کو فروغ دینا چاہتا ہے، اس لیے اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق غرور، خودپسندی اور طاقت کے استعمال کی پالیسی امریکی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے۔