پینٹاگون پر میزائلوں کی کمی چھپانے کا الزام، امریکا کی جنگی تیاریوں پر سنگین سوالات

واشنگٹن: امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) پر یہ سنگین الزام سامنے آیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کو دفاعی میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کے ذخائر کی اصل صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کر رہا، جس کے باعث امریکا کی جنگی حکمت عملی اور مستقبل کی عسکری کارروائیوں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف اور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے اندر موجود بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اعلیٰ حکام انٹرسیپٹر میزائلوں سمیت اہم ہتھیاروں کی کمی کی شدت کو مکمل طور پر سامنے نہیں لا رہے۔ ذرائع کے مطابق اس خاموشی کے باعث وائٹ ہاؤس کو بھی دفاعی تیاریوں کی حقیقی تصویر میسر نہیں۔

رپورٹس میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کے پاس اتنا اسلحہ موجود نہیں کہ وہ طویل عرصے تک محفوظ انداز میں بڑے پیمانے کی جنگ جاری رکھ سکے۔ عہدیدار کے مطابق دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی قلت مستقبل کی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت ردعمل اختیار کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، خصوصاً تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد۔ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کر رہی ہے، جبکہ برطانیہ اور جرمنی میں موجود فوجی اڈوں سے ایف-35 اور ایف-16 لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کے ساتھ خطے کی جانب روانہ کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی امریکی حملے ساحلی اہداف تک محدود تھے، تاہم جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کارروائیوں کا دائرہ ایران کے اندرونی علاقوں تک وسیع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بعض دفاعی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت فوجی کارروائیاں ناگزیر ہو سکتی ہیں۔

اسی دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مکمل جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا امریکا خود بھی ایسی وسیع جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے یا نہیں۔

مارچ میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (RUSI) کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے ابتدائی 16 دنوں کے دوران 11 ہزار سے زائد مختلف ہتھیار استعمال کر چکے تھے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اسی رفتار سے استعمال جاری رہا تو اہم اسلحہ ذخائر ایک ماہ کے اندر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آپریشن “ایپک فیوری” کے بعد ٹوماہاک کروز میزائلوں اور تھاڈ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر کو مکمل طور پر بحال ہونے میں 2031 تک جبکہ تھاڈ میزائلوں کی پیداوار اور ذخائر کی بحالی میں 2029 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

ایک اور ذریعے کا دعویٰ ہے کہ جب وزیر دفاع صدر یا کانگریس کو بریفنگ دیتے ہیں تو انہیں ہر پہلو سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، کیونکہ بعض اعلیٰ معاونین ممکنہ تنقید سے بچنے کے لیے حساس معلومات محدود رکھتے ہیں۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا کی جنگ کو مزید وسعت دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، امریکی فوجیوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کی کامیابی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

Related posts

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی معیشت پر عوام غیر مطمئن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر پہنچ گئی

امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور امریکا ناقابلِ اعتماد ہے، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت بیان