مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے لگا، حتمی فیصلہ آئینی و قانونی جائزے سے مشروط

قاہرہ: مصر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان گزشتہ ہفتے طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان کا سنجیدگی سے جائزہ شروع کردیا ہے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ قاہرہ اس معاملے پر تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ جامع مشاورت کررہا ہے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل آئینی و قانونی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

مصری وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ مصر کے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک کے ساتھ گہرے اور خصوصی تعلقات ہیں، جو صرف سیاسی روابط تک محدود نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون پر مشتمل ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر بدر عبدالعاطی نے واضح کیا کہ مصر اس معاہدے سے ابتدا ہی سے آگاہ ہے اور اس معاملے کو مصری ریاستی اداروں میں جامع طور پر زیرِ غور لایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق دفاعی معاہدوں میں شمولیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مصر کے آئین اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔

مکہ معاہدے کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان

مصر کی جانب سے معاہدے میں شمولیت پر غور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے کھلا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جبکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مصر کو ممکنہ طور پر شامل ہونے والے ممالک میں نمایاں طور پر ذکر کیا۔

اگر مصر معاہدے میں شامل ہوجاتا ہے تو اس کے ارکان کی تعداد چار ہوجائے گی اور پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر پر مشتمل ایک اہم علاقائی دفاعی تعاون کا فریم ورک تشکیل پائے گا۔ مصر کی شمولیت سے معاہدے کو عرب دنیا میں اضافی سیاسی، عسکری اور جغرافیائی وزن بھی حاصل ہوسکتا ہے۔

حملہ ایک ملک پر نہیں، تمام ارکان پر تصور ہوگا

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترک وزیر خارجہ نے اس اصول کو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے تصور سے مماثل قرار دیا، تاہم معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف قرار نہیں دیا گیا۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری رابطہ کاری، مشترکہ مشقوں، دفاعی صنعت میں تعاون اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مصر کی شمولیت کیوں اہم ہے؟

مصر عرب دنیا کے سب سے اہم عسکری اور سیاسی ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، بحیرہ احمر، نہر سوئز اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی میں کردار کے باعث ممکنہ شمولیت معاہدے کی علاقائی اہمیت میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔

تاہم قاہرہ نے ابھی معاہدے میں شمولیت کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ مصری حکومت کے مطابق دفاعی معاہدے سے وابستہ ممکنہ ذمہ داریوں، آئینی تقاضوں اور قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اس پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہنے کے بجائے مستقبل میں وسیع تر علاقائی سلامتی کے فریم ورک کی شکل اختیار کرسکتا-

Related posts

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان  اہم ملاقات

ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے 6 اہم شرائط رکھ دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا